روشن پہاڑیوں سے اُدھر، کوہِ تار میں
کب تک پڑا رہوں گا اُداسی کے غار میں!
کیا جانے کب نِکل پڑے کِن جنگلوں کی سمت!
یہ پیڑ اب نہیں ہے مِرے اختیار میں
نیچے اُترتے ہیں نہ کہِیں اور جاتے ہیں
میں گِھر گیا ہوں کیسے پرندوں کی ڈار میں!
بارش برس سکے تو چھٹے نیند کا غُبار
آندھی رُکے تو میں بھی کِھلوں خواب زار میں
ایک ایک کر کے سارے مکیں سو چُکے مگر
گھر جاگتا رہے گا مِرے انتظار میں
سعید شارق