سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ

سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ
پہلے ہوں کہ چوتھے، وہ خلیفہ ہیں مُعظّم
کس طرح نہ دیکھیں حدِ بینائی سے آگے!
جن آنکھوں پہ خود صاحبِ قرآںؐ نے کِیا دٙم
مدحت کے جریدے میں اُنھیؓ کے لیے مضمون
اخبارِ مودّت میں اُنھیؓ کے لیے کالم
اُس وقت سے وہ حیدرِ کرّارؓ ہیں، جس وقت
بوبکر ؓ تھے صدّیق نہ فاروقؓ تھے اعظم
میداں میں ابھی شیر دَہاڑا بھی نہیں تھا!
بھاگ اُٹھّے سگاں، گُرگ و پلنگاں نے کِیا رٙم
کٹتے رہے تلوار سے کُفّار ، لگاتار
پھر اس کو اشارہ کِیا حیدرؓ نے: ذرا تھم!
آقاؐ نے تھمایا تھا جسے ہاتھ میں اُن کے
لہراتا ہے اب تک مِرے دل میں وہی پرچم
ہے اُنؓ کی ولایت پہ نبّوت کو بھی اصرار
موسیٰؑ ہوں کہ عیسیٰؑ ہوں، براہیمؑ کہ آدمؑ
اس بار بھی ویسا ہی تھا اکّیسواں روزہ
خامے کا گلا خُشک تھا، قرطاس رہا نم
مولاؓ! تجھے ملنے کو ترستی رہیں خوشیاں
ہر سمت ترا رنج تھا، ہر سمت ترا غم
کیا کیا لِکھوں؟ اور کیسے لِکھوں؟ لفظ نہیں ہیں
دراصل۔۔ مگر۔۔۔ اس لیے۔۔گرچہ۔۔۔علیؓ۔۔۔تاہم۔۔۔

سعید شارق