سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں
اگرچہ ہجر کی لاٹھی پکڑ کے چلتا ہوں
یہ تیرگی سے بھرا شہر، یہ سیہ مہتاب
یہیں پہنچتا ہوں گر صبح تڑکے چلتا ہوں
ترے بغیر کہاں کا سفر! مگر پھر بھی
مَیں اپنے پیروں سے اب لڑ جھگڑ کے چلتا ہوں
یہ دشتِ ہست ، یہ بیساکھیاں، یہ گردِ ملال
مَیں رات دن یونہی ایڑھی رگڑ کے چلتا ہوں
پلٹ کے آئے نہ آئے نَفَس، خدا حافظ!
دوبارہ دِل کبھی دھڑکے نہ دھڑکے، چلتا ہوں!
یہی حضر ہے مِرا اور یہی سفر ہے مِرا
مَیں ایک خواب کی دلدل میں گڑ کے، چلتا ہوں
تجھے بھی راکھ نہ کر بیٹھوں اپنے ساتھ کہیں!
سو اس سے قبل کہ آگ اور بھڑکے، چلتا ہوں!
وہ باغ میری طرف آئے بھی تو کیوں، شارقؔ
مَیں خود ہی وقت کی ٹہنی سے جھڑ کے چلتا ہوں
سعید شارق