شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گری تھی لان میں
اور میں غرق ہو گیا دُھند بھرے گُمان میں
آنکھوں میں رینگتی رہِیں رنگ برنگی چیونٹیاں
جانے وہ کیسا شہد تھا نیند کے مرتبان میں!
تیرے بغیر زندگی مُہر بہ چشم کٹ گئی
کوئی نہ ہم سخن ہُوا مجھ سے تری زبان میں
سعید شارق