سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
یہ موج روز نئی داستان گھڑتی ہے
لگے رہیں گے کہاں تک سکوت کے خیمے
وہ شور ہے کہ طناب صدا اکھڑتی ہے
سلگ رہا ہے کسی سبز آگ میں وہ شجر
جو ٹہنیوں کو ہلاؤں تو راکھ جھڑتی ہے
لپکتے ہیں انہی شانوں کو ڈھونڈتے دھاگے
پڑے پڑے ہی کہیں کوئی شال ادھڑتی ہے
بہت گھنا ہی سہی نخل خواب کا سایہ
مگر یہ دھوپ جو چاروں طرف سے پڑتی ہے
یہ باغ دل ہے یہیں اک اداس شہزادی
گلاب توڑتی ہے تتلیاں پکڑتی ہے

سعید شارق