سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری

صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری
اور پھر شب کی خُنک جھیل میں کشتی اُتری
یونہی کُھلنا تھا کہاں سحرِ شبستاں مجھ پر!
خواب پہنا تو مِری آنکھ سے پٹّی اُتری
مدتّوں بعد کسی یاد نے اخروٹ دھرے
ڈرتے ڈرتے شجرِ دل سے گُلہری اُتری
مَیں وہ تہ خانہ ہوں جو تُجھ سے بھرا رہتا تھا
پھر کسی روز اُداسی مِری سیڑھی اُتری
ان گنت شہروں سے گُزری تھی مِرے خواب کی ریل
جانے کس وقت، کہاں، کون سواری اُتری!
پاؤں اُٹھتے ہی نہ تھے بارِ پشیمانی سے
موچ آئی تو مِرے سر سے یہ گٹھڑی اُتری
اُس طرف بیلیں چڑھیں ہجر کی دیواروں پر
اور اِدھر پیڑ کی جڑ تک کوئی آری اُتری
ایک سا غم ہے مجھے اور مِرے آئینے کو
اُس کی صورت بھی نظر آتی ہے اُتری اُتری
ایسے عالم میں کوئی اور کہاں کام آیا!
نا اُمیدی تھی، سو اُمّید پہ پُوری اُتری
دفعتاً کُھل گئی دوشیزہء دُنیا مجھ پر
یک بہ یک بال کُھلے، ساتھ ہی ساڑھی اُتری
کیا کہوں! جِسم ہے تُو یا کوئی دریائے رواں!
تُجھ کو چُھوتے ہی مِرے ہاتھ سے مٹّی اُتری
مَیں نے بھر بھر کےپیے ضبط کے آنسو، شارق
تب کہیں جا کے مِرے حلق سے ہڈّی اُتری

سعید شارق