سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک

صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک
جانے مَیں رہ جاؤں کتنا! شام تک
ناؤ دھنس جاتی ہے دِل کی ریت میں
سُوکھ جاتا ہے یہ دریا شام تک
مَیں نے سب کِرنیں دِیوں میں بانٹ دِیں
ورنہ کاسہ بھر چُکا تھا شام تک
پھر کوئی شب، مجھ کو لینے آ گئی
اور اپنے پاس رکھّا شام تک
شام سے پہلے چلا جائے گا وہ
ختم ہو جائے گی دُنیا شام تک

سعید شارق