سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!

سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!
صفحے اُلٹتی رہتی ہے افسردگی، پڑی
جُوں ہی خیال آیا کسی کارگاہ کا
ناگاہ میرے کُوزہء جاں پر جِھری پڑی
کٹ جاتی اس کی دھار سے خُود ہی نیامِ چشم
ناچار مجھ کو تیغِ نظر کھینچنی پڑی
ہر خواب قتل کرنا پڑا اپنے ہاتھ سے
اور ایک ایک قبر بھی خُود کھودنی پڑی
چمکا گئی ہے مجھ کو اندھیرے کی اِک کرن
جانے بنے گا کیا جو کبھی روشنی پڑی!
جی کٹ کے رہ گیا اسے پامال دیکھ کر
اِک تو تمھاری یاد، پِھر ایسی گِری پڑی؟
گُزرا تھا کیسا ابر، سرِ کوہسارِ دِل!
پڑتے ہی تیز دُھوپ، ذرا برف بھی پڑی
کیا یاد رہتا مدرسہء دہر کا سبق!
مَیں اپنے دھیان میں تھا کہ یکدم چھڑی پڑی

سعید شارق