تکتا ہی رہ گیا مجھے، صیّاد، گھات پر
مَیں اُڑتے اُڑتے بیٹھ گیا شاخِ نعت پر
جو نقشۂ مدینہ میں شامل نہ ہو سکے
ایسی کوئی لکیر نہیں دل کے ہات پر
رہنے لگا ہوں تیرےﷺ سبب اتفاق سے
مَیں خود پہ چیختا تھا کبھی بات بات پر
یہ کیسی طرفہ نشو و نما ہے ترےﷺ طفیل
اُگنے لگے ہیں بازوؤں کےسات سات ، پَر
سینچا تھا مَیں نے عشقِ محمدﷺ سے ایک بیج
سو اُن کا نام درج ہے اب پات پات پر
سعید شارق