سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا

تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا
تُو کیسے بچ گیا ، تجھ کو تو مرنا چاہیے تھا!
بھلا یوں چھوڑ کر جاتا ہے اپنا آپ کوئی!
اُسے ایک ایک کمرا خالی کرنا چاہیے تھا
یہ اُٹھتی دُھول یہ قدموں کی دھیمی دھیمی آہٹ
وہ رستہ میرے سینے سے گزرنا چاہیے تھا
تری نظروں کا مرہم اور یوں بے کار جائے!
اگر یہ زخم ہے تو اِس کو بھرنا چاہیے تھا
جھکی جاتی ہے لفظوں کی کمر تو سوچتا ہوں
مجھے یہ بوجھ خاموشی پہ دھرنا چاہیے تھا

سعید شارق