تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!
تُو اگر لمحۂ فردا تو گزارا ہُوا مَیں
اُس کی سانسوں میں بھری تھی وہ طلسم آمیزی
دفعتاً برف کے ٹکڑے سے شرارا ہُوا مَیں
خود کو تکنا ہو تو آئینے مجھے تکتے ہیں
ایسے شفّاف ہوں مٹّی کا نتھارا ہُوا مَیں
جانے کتنے ہی چراغوں کی عداوت جھیلی!
تب کہیں جا کے ستاروں کو گوارا ہُوا مَیں
ریگِ صحرا میں اَٹے رہنے کا غم اپنی جگہ
پھر بھی خوش ہوں کہ پرندوں کا سہارا ہُوا مَیں
وہ یہ سمجھے کہ مجھے خود سے محبت ہی نہ تھی
بس یہی سوچ کے اے دوست ! تمہارا ہُوا مَیں
پہلے پہلے تو مِلے مجھ میں سمندر، شارقؔ
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گارا ہُوا مَیں
سعید شارق