اردو کے ایک نہایت حساس اور منفرد شاعر ساغر صدیقیؔ کو، جن کا اصل نام محمد اختر تھا۔ 1928ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ساغرؔ نے امرتسر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ نوعمری ہی سے ان میں شاعری کا ذوق نمایاں تھا۔ انہوں نے فارسی اور اردو کی روایتی تعلیم حاصل کی، لیکن باقاعدہ اعلیٰ تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ان کا رجحان کم عمری ہی میں تصوف، عشق اور تنہائی کی طرف بڑھنے لگا۔ 1947ء کی ہجرت کے بعد وہ لاہور میں سکونت پذیر ہوئے اور ریڈیو پاکستان، مشاعروں اور ادبی رسائل کے ذریعے اپنی شاعری کو عوام تک پہنچایا۔ کئی فلموں کے گیت ان کے لکھے ہوئے تھے، جن میں سے کچھ مقبول ہوئے لیکن ان کا مالی حق اکثر انہیں نہیں ملا۔
ساغرؔ نے ایک قریبی دوست کو کہا تھا “میں مر جاؤں گا تو لوگ میری قبر پر پھول چڑھائیں گے، مگر زندہ رہا تو کوئی میرا حال نہ پوچھے گا" یہ بات اس حد تک سچ ثابت ہوئی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی قبر آج بھی اہلِ ذوق کی زیارت گاہ ہے، مگر زندگی میں وہ بھوک، تنہائی اور گمنامی کے شکار رہے ساغرؔ اکثر اپنی شاعری کے مسودات لکڑی کے ایک صندوق میں رکھتے تھے۔ ایک روز کسی نے ان کی تمام نوٹ بکس چرا لیں — ان میں ان کے درجنوں غیر مطبوعہ مجموعے تھے۔ اس واقعے کے بعد وہ شدید صدمے میں مبتلا ہوئے، اور یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے خود کو دنیا سے تقریباً کاٹ لیا۔
19 جولائی 1974 کو وہ لاہور کے فٹ پاتھ پر مردہ پائے گئے۔ان کی جیب سے صرف چند روپے، ایک شکستہ قلم اور کاغذ کا پرزہ ملا جس پر لکھا تھا میں وہ ساغر ہوں جسے دنیا نے خالی پیالہ بنا دیا۔