شاعر

ساغرصدیقی

Saghar Siddique

4
منتخب کلام
3
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

اردو کے ایک نہایت حساس اور منفرد شاعر ساغر صدیقیؔ کو، جن کا اصل نام محمد اختر تھا۔ 1928ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ساغرؔ نے امرتسر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ نوعمری ہی سے ان میں شاعری کا ذوق نمایاں تھا۔ انہوں نے فارسی اور اردو کی روایتی تعلیم حاصل کی، لیکن باقاعدہ اعلیٰ تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ان کا رجحان کم عمری ہی میں تصوف، عشق اور تنہائی کی طرف بڑھنے لگا۔ 1947ء کی ہجرت کے بعد وہ لاہور میں سکونت پذیر ہوئے اور ریڈیو پاکستان، مشاعروں اور ادبی رسائل کے ذریعے اپنی شاعری کو عوام تک پہنچایا۔ کئی فلموں کے گیت ان کے لکھے ہوئے تھے، جن میں سے کچھ مقبول ہوئے لیکن ان کا مالی حق اکثر انہیں نہیں ملا۔
ساغرؔ نے ایک قریبی دوست کو کہا تھا “میں مر جاؤں گا تو لوگ میری قبر پر پھول چڑھائیں گے، مگر زندہ رہا تو کوئی میرا حال نہ پوچھے گا" یہ بات اس حد تک سچ ثابت ہوئی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی قبر آج بھی اہلِ ذوق کی زیارت گاہ ہے، مگر زندگی میں وہ بھوک، تنہائی اور گمنامی کے شکار رہے ساغرؔ اکثر اپنی شاعری کے مسودات لکڑی کے ایک صندوق میں رکھتے تھے۔ ایک روز کسی نے ان کی تمام نوٹ بکس چرا لیں — ان میں ان کے درجنوں غیر مطبوعہ مجموعے تھے۔ اس واقعے کے بعد وہ شدید صدمے میں مبتلا ہوئے، اور یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے خود کو دنیا سے تقریباً کاٹ لیا۔
19 جولائی 1974 کو وہ لاہور کے فٹ پاتھ پر مردہ پائے گئے۔ان کی جیب سے صرف چند روپے، ایک شکستہ قلم اور کاغذ کا پرزہ ملا جس پر لکھا تھا میں وہ ساغر ہوں جسے دنیا نے خالی پیالہ بنا دیا۔

منتخب اشعار

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

پورا کلام ‹

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

پورا کلام ‹
  1. 01 گل کوئی عشق دی کر، پیار دا قصہ سُنا Gal koi ishq di kar, pyar da qissa suna
  2. 02 یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں Yeh jo deewane se do chaar nazar aate hain آواز میں دستیاب
  3. 03 ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں Hai dua yaad magar harf-e-dua yaad nahi آواز میں دستیاب
  4. 04 میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا Main talkhi-e-hayaat se ghabra ke pi gaya آواز میں دستیاب