ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
نظریں ملتی ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
دل جلوں کے لئے گھبرا کے غم فرقت سے
جان دے دینا بڑی بات نہیں ہوتی ہے
مل گیا مجھ کو جو ملنا تھا تری الفت میں
غم سے بڑھ کر کوئی سوغات نہیں ہوتی ہے
مجھ کو لے چل دل بیتاب وہاں پر کہ جہاں
دن ہی رہتا ہے اور رات نہیں ہوتی ہے
تاڑنے کا نہیں تم ہی کو سلیقہ ورنہ
کب نظر حائل جذبات نہیں ہوتی ہے
جان دینا جسے آتا ہو رہ الفت میں
اس کی قسمت میں کبھی مات نہیں ہوتی ہے
دن تو کٹ جاتا ہے فرقت کا مگر اے ساحرؔ
کسی صورت سے بسر رات نہیں ہوتی ہے
ساحر بھوپالی