ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
نگاہ ناز کی نفرت بھی لوٹ لی میں نے
خود اپنی ذات سے بھی کر کے دشمنی میں نے
نباہ دی غم فرقت سے دوستی میں نے
تڑپ کے پرسش غم پر وہ آہ کی میں نے
دل تباہ کی تصویر کھینچ دی میں نے
شمع امید کی گل کر کے روشنی میں نے
نشاط غم کی نئی راہ ڈھونڈھ لی میں نے
غضب ہے اس کو خبر تک نہ ہو کہ جس کے لئے
تڑپ تڑپ کے شب غم گزار دی میں نے
کسی کے سوز محبت کی آنچ دے دے کر
غم حیات کی رنگت نکھار دی میں نے
مزا ملا ہے تڑپنے کا جب سے فرقت میں
ترے کرم کی تمنا بھی چھوڑ دی میں نے
تماشا اپنی تباہی کا خوب دیکھ لیا
نثار کر کے ترے غم پہ ہر خوشی میں نے
فسانۂ غم فرقت نہ پوچھئے ساحرؔ
گزارنا تھی شب غم گزار دی میں نے

ساحر بھوپالی