غم ترا جان سے بھی پیارا ہے
بے کسی کا یہی سہارا ہے
پھر تری ملتفت نگاہوں نے
عرض غم پر مجھے ابھارا ہے
کیوں نہ مایوس ہو دل محزوں
بحر غم کا کہیں کنارا ہے
ان سے اس طرح شکوے کرتا ہوں
جیسے ان پر مرا اجارا ہے
کچھ خبر بھی ہے دل نے کتنی بار
شب غم میں تجھے پکارا ہے
طعنے سہنا پڑے تمہارے لئے
ورنہ ذلت کسے گوارا ہے
دل ساحرؔ کا انتخاب نہ پوچھ
حسن نے بڑھ کے ہاتھ مارا ہے
ساحر بھوپالی