ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
اک قیامت آپ کا وعدہ ہوا
وہ تو الزام جفا سے بچ گئے
عشق میرا مفت میں رسوا ہوا
سارے طوفاں موج بن کر رہ گئے
اشک غم قطرہ سے جب دریا ہوا
جب مٹے ارمان و حسرت سینکڑوں
درد دل میں تب کہیں پیدا ہوا
بات جو نظروں نے نظروں سے کہی
دور تک اس بات کا چرچا ہوا
ان کو دیکھا تھا بس اتنا یاد ہے
بے خودی میں جانے پھر کیا کیا ہوا
آپ کے دامن تلک پہنچے نہ آنچ
شعلۂ غم دل میں ہے بھڑکا ہوا
ایک تیرے روٹھنے سے ہے یہ حال
جیسے ہو سارا جہاں روٹھا ہوا
عالم جوش جنوں میں بارہا
مجھ کو خود پر آپ کا دھوکا ہوا
میں تو خود ارمانوں سے بیزار تھا
تم نے بھی ٹھکرا دیا تو کیا ہوا
میں ادھر غرق ندامت اور ادھر
بحر رحمت جوش میں آیا ہوا
تیری اس بخشش کو یا رب کیا کہوں
دل دیا بھی مجھ کو تو ٹوٹا ہوا
ہے تصور میں بھی آنے سے حجاب
اک قیامت آپ کا پردا ہوا
شعر میرا سحر ہے ساحرؔ ہوں میں
سر سے پا تک درد میں ڈوبا ہوا
ساحر بھوپالی