ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

جھلکتا ہے غم میری ہر اک خوشی سے

جھلکتا ہے غم میری ہر اک خوشی سے
شکایت ہے مجھ کو تری بے رخی سے
میں اپنے تئیں مر چکا تھا کبھی کا
مگر جی رہا ہوں تمہاری خوشی سے
خوشی میں مزا ہے نہ اب غم میں لذت
یہ کانٹا نکالو دل زندگی سے
وہ اور ہوں گے جن کو ہے چاہت کا ارماں
مجھے پیار ہے آپ کی دشمنی سے
کہاں تک جیوں آسرے پر کرم کے
میں باز آیا بس آپ کی دوستی سے
مٹی ہر طرح جان ساحرؔ کی لیکن
ترا غم نہ بہلا غم زندگی سے

ساحر بھوپالی