جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز
ذرے کو آفتاب بنایا نہیں ہنوز
جو چاہے دیکھ لے تجھے میری نگاہ سے
میں نے تجھے کسی سے چھپایا نہیں ہنوز
مانا کہ التفات فزوں تر ہے آپ کا
دل نے مگر غموں کو بھلایا نہیں ہنوز
الجھا ہوا ہوں آج بھی تیرے خیال سے
دامن کو خار غم سے چھڑایا نہیں ہنوز
مٹ کر بھی دل کو لطف و کرم کی ہے آرزو
گویا صلہ وفاؤں کا پایا نہیں ہنوز
وہ جس پہ آبروئے وفا کا مدار ہے
وہ اشک شوق میں نے بہایا نہیں ہنوز
بے داغ آج بھی ہے جبین نیاز عشق
سر کو کہیں پہ میں نے جھکایا نہیں ہنوز
جس پر ہے انحصار مری موت و زیست کا
میں نے وہ راز تم کو بتایا نہیں ہنوز
ساحرؔ کسی سے ملنے کی حسرت ہو کس لئے
میں نے خود اپنے آپ کو پایا نہیں ہنوز
ساحر بھوپالی