ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

نگاہ ناز کو خودبیں بنا کے آیا ہوں

نگاہ ناز کو خودبیں بنا کے آیا ہوں
خود اپنی راہ میں کانٹے بچھا کے آیا ہوں
جہاں پہ ہوتا ہے لطف و کرم سے دل کا شکار
مقدر اپنا وہاں آزما کے آیا ہوں
ستم کی پوری کہانی فراق کا قصہ
لب خموش سے ان کو سنا کے آیا ہوں
نہ آس توڑ کہ ظالم میں تیرے قدموں میں
تمام دولت دنیا لٹا کے آیا ہوں
جہاں پہ لٹتی ہے دنیائے آرزو ساحرؔ
وہاں میں جان کی بازی لگا کے آیا ہوں

ساحر بھوپالی