ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں

نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں
کہ دل کو ہوتی ہے وحشت گلوں کے سائے میں
اسے تو خانۂ ویراں میں چین ملتا ہے
سکوں نہ پائے گی حسرت گلوں کے سائے میں
خبر نہ تھی کہ یوں آئے گی اب کے فصل گل
کہ ہوگی غم کی ضرورت گلوں کے سائے میں
الجھ کے رہ گیا دامان شوق کانٹوں میں
نہ نکلی جب کوئی حسرت گلوں کے سائے میں
ہر ایک چوٹ ابھر آئی ہے تمنا کی
ملی ہے درد میں لذت گلوں کے سائے میں
نہ توڑا پھول کوئی اس لئے کہ اے ساحرؔ
پلی ہے میری محبت گلوں کے سائے میں

ساحر بھوپالی