search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ساحر بھوپالی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ
سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم
دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا
نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں
نگاہیں تری بے اماں اور بھی ہیں
جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز
سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی
مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری
جھلکتا ہے غم میری ہر اک خوشی سے
پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے
نگاہ ناز کو خودبیں بنا کے آیا ہوں
اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا
اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
اب یاد تری درد کو بہلا نہ سکے گی
خوش و خرم نہ کوئی ذات ملی
میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن
دھڑکا ہے راہ غم میں مرا دل جگہ جگہ
وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھی
ہر اک منزل ہر اک ساحل ہر اک طوفاں سے ٹکرائی
رنج و غم مونس بنے حسرت سے یارانہ ہوا
ان کی صورت جہاں نظر آئی
غم ترا جان سے بھی پیارا ہے
بہت حسین بڑی پر بہار گزری ہے
ہے برابر اسے ملا نہ ملا
محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے
جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے
جذبات محبت چھپ نہ سکے گو ضبط سے ہم نے کام لیا
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
رشک مست شباب ہو تم تو
یاد آتے گئے بھلانے سے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے
میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے