رنج و غم مونس بنے حسرت سے یارانہ ہوا
اک قیامت تجھ پہ ظالم دل کا آ جانا ہوا
مشکلیں ہو جائیں گی آسان اس دم ہجر کی
صبر کا جس وقت بھی لبریز پیمانہ ہوا
ایک ہچکی موت کی سب کام پورا کر گئی
مختصر یوں بیکسئ غم کا افسانہ ہوا
رات دن بس درد کی بیتابیوں سے کام ہے
پھر سکوں اس کو کہاں جو تیرا دیوانہ ہوا
ساحر بھوپالی