search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
ساحر لدھیانوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
یہ زمیں کس قدر سجائی گئی
یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو
توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے
تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں
طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے
سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے
سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے
پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے
پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے
نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیے
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی
میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے
لب پہ پابندی تو ہے احساس پر پہرا تو ہے
کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی
خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں
جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریں
اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں
ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے
ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوس
گلشن گلشن پھول
فن جو نادار تک نہیں پہنچا
دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ
دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے
بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے
بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے
بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم
برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جا
بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلے
عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی
اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں
اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیں
اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے
اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو