سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

‏اداسی بس میں تھوڑی ہے

‏اداسی بس میں تھوڑی ہے
کہ دل کو ڈانٹ کر کہہ دیں
ہمیشہ خوش رہا جائے
چلو ایسا بھی گر کر لیں
کہیں سے مسکراہٹ کو
لبوں تک لے بھی آئیں تو
اداس آنکھیں نہیں چُھپتیں
اور
ایسے میں اگر
لکھیں گے
اداسی اس میں جھلکے گی
اداسی بس میں تھوڑی ہے
بس اتنا زور چلتا ھے
جو ہنستے ہیں دکھاوا ہے
دکھاوا بھی کبھی مجبوریوں میں کرنا پڑتا ھے
کئی رشتوں بچانے کو
کئی جذبےچھپانے کو
سو تھوڑا ھم بھی کرتے ہیں
فقط جھوٹا ہی ہنستے ہیں
مگر جب نظم لکھتے ہیں
ہماری بے بسی پر پھر
سبھی الفاظ روتے ہیں
جو ظاہر کرنہی سکتے
کبھی اپنے رویوں سے
اُنہی جذبات کو تفصیل سے
نظموں میں لکھتے ھیں
قلم تو دل کے اندر کی اُداسی بھانپ لیتا ھے
اسے اس سے چھپانا بھی
ھمارے بس میں تھوڑی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سجاد رضا