سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیں

عدل کی دھجیاں جب بھی اُڑائی جاتی ہیں
صدائیں عرش پہ دینے دُہائی جاتی ہیں
رُکے گا کون کڑے وقت میں سرِ میداں
وفائیں جان کے بدلے نبھائی جاتی ہیں
اُسی کی خلق کو دھوکے سے لوٹنے کے لئے
اُسی کے نام کی قسمیں اُٹھائی جاتی ھیں
اُس ایک حد پہ نہ سنسار یہ چلا جائے
جہاں عذاب کی خبریں سنائی جاتی ہیں
ترقی کرکے بھی انسانیت گری ہی رہی
جو زندہ بیٹیاں اب بھی جلائی جاتی ہیں
رفاقتیں بھی کئی آگے جاں سے ہوتی ہیں
عتاب سہتے ھوئے بھی نبھائی جاتی ہیں
کہ بایاں ھاتھ بھی لاعلم رہے دائیں سے
یہاں تو نیکیاں جگ کو دکھائی جاتی ہیں
اُمیدیں بس وہی بنتیں رضا اذیت ہیں
بجز خدا جو کسی سے لگائی جاتی ہیں

سجاد رضا