سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

بے ہودہ عقائد سے بغاوت نہیں کرتی

بے ہودہ عقائد سے بغاوت نہیں کرتی
منطق کا کبھی پاس جہالت نہیں کرتی
کمزور کوئی حق پہ کھڑا ھو جو صدادے
مخلوق کبھی اس کی حمایت نہیں کرتی
دل موج میں آجائے تو سُنتا ہی کہاں ھے
ایسا نہی کہ عقل ملامت نہیں کرتی
یہ تُو ھے خُدا معاف جو کرتا ھے خطائیں
دُنیا تو اِک خطا پہ رعایت نہیں کرتی
اک حد ھے جہاں مُہر لگاتی ھے مَشِیَّت
پھر کوئی بھی تفسیر ھدایت نہیں کرتی
تنہائی سے بہتر کوئی ساتھی ہی نہیں ھے
سُنتی ھے فقط،شکوہ شکایت نہیں کرتی
اپنی ہی لغزشیں ھیں رضا اُس کو دوش کیوں
وہ ماں ھے تربیت میں خیانت نہیں کرتی

سجاد رضا