دلِ ناداں ھمیں لگتا تھا بہل جائے گا
ٹھوکریں کھائے گاخودہی سنبھل جائے گا
زور بازو کا یہاں کام نہیں ھے کوئی
عشق خاموش سمندر ھے نگل جائے ھے
کسے خبر تھی سر راہ ھم سفر اپنا
راہ بدلے گا کسی روز نکل جائے گا
ہوش میں رہ کہ بھی دیوانہ نظر آئے گا
روپ اس کا بھی محبت سے بدل جائے گا
دیکھنا گرمیِ احساس سے پھٹ جائے گا
دل کوئی موم نہیں ھے جو پگھل جائے گا
تھا میسر تو رضا یہ گمان تک نہ ھوا
وہ دسترس سے کسی روزنکل جائے گا
سجاد رضا