ھمارے عہد کے لوگو
ھمارا عہد کیا گزرا
رہا کچھ بھی نہیں ویسا
نہ ویسی سوچ باقی ھے
نہ ویسے لوگ باقی ھیں
کہ رشتے سب وہی موجود ھیں لیکن
محبت کی جگہ اب مادیت
محور ھے رشتوں کا
کہ اس پر ہی تو بنتے ھیں
اور اس کے گرد چلتے ھیں
جب ہی تو اس زمانے میں
نہ مجنوں ھیں نہ لیلیٰ ھے
نہ سسی تھل میں جلتی ھے
نہ پُنوں جان دیتے ھیں
جب ہی تو اس زمانے میں
نہ ھو باہو کی ملتی ھے
نہ بُلھا رقص کرتا ھے
مگر یہ بھی حقیقت ھے
ازل سے آج تک ایسا ھوا جب بھی
محبت کی قحط سالی میں
رب نے لوگ بھیجے ھیں
محبت بانٹنے والے
جو پھر بنجر زمینوں کو
خلوص اور پیار کے زمزم
ہی سیراب کرتے ھیں
زمانے پھر بدلتے ھیں
وہی قدریں
انہیں بنجر زمینوں سے دوبارہ سر اُٹھاتی ھیں
زمانے کو بتاتی ھیں
محبت ہی تو محور ھے
محبت ہی خدائی ھے
محبت سے تو رشتوں میں
ھُویدا پارسائی ھے۔۔۔۔۔۔
سجاد رضا