لب پہ اپنے سدا دعا رکھنا
دل میں آجائے گا خدا رکھنا
سارے روشن دنوں کے ساتھی ھیں
بس اندھیروں میں حوصلہ رکھنا
لوگ تنقید نہیں سہہ پاتے
آئینے ہی سے بس گلہ رکھنا
چھوڑ جانا ھےاس زمانے کو
خیر کا جاری سلسلہ رکھنا
پھر سے عادی کہیں نہ ھوجاو
اب تعلق میں فاصلہ رکھنا
دل نے ہر بار درد جھیلے ھیں
اب کے دل پہ نہ فیصلہ رکھنا
ایسی تنہائی بھی تو غربت ھے
ساتھ میں جبکہ قافلہ رکھنا
اپنی تعبیر تک نہ ظاہر ھوں
خواب دل میں کہیں چُھپا رکھنا
جرم ثابت ھوا رضا ھم پہ
اندھے لوگوں میں آئینہ رکھنا
سجاد رضا