سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھے

محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھے
کڑے حالات میں بھی خود ہی مختار رکھتی ھے
بڑی مُدت ھوئی اور آج پھر دیکھا ھے وہ چہرہ
وہ گزرے کرب کے لمحوں کے سب آثار رکھتی ھے
محبت پھول کی پتی سے بھی نازک سا اک جذبہ
مگر جب ٹھان لے چٹان سا کردار رکھتی ھے
کسی معصوم سے بچے کی طرح رو بھی پڑتی ھے
محبت درد میں بچوں سا ہی اظہار رکھتی ھے
محبت بانٹتی خوشبو ھے نفرت کی زمینوں پر
مگر یہ راستے اپنے بڑے پر خار رکھتی ھے
اسے کیا مات کہ رہتی ھے زندہ داستانوں میں
یہ کیسا معجزہ اپنا درون ِھار رکھتی ھے
رضا آیا نہیں کوئی پھر اس کے بعد ورنہ تو
محبت آج بھی کچا گھڑا اس پار رکھتی ھے

سجاد رضا