سلیم کوثر، جن کا اصل نام محمد سلیم ہے، 24 اکتوبر 1947 کو بھارت کے شہر پانی پت میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا اور خانیوال میں آباد ہوا، جہاں اُن کی ابتدائی تعلیم و تربیت نے اُن کے ذہن میں زبان اور شعری جمالیات کے بیج بوئے۔ نوجوانی ہی میں انہیں لفظ سے گہری وابستگی پیدا ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اردو غزل کے نمایاں اور معتبر لہجے کے شاعر شمار ہونے لگے۔ ان کا شعری سفر ایک ایسے ادبی ماحول میں پروان چڑھا جہاں روایت بھی تھی اور اس سے آگے بڑھنے کی جستجو بھی۔
سلیم کوثر کی شہرت کا سب سے روشن حوالہ اُن کی مقبول غزل "میں خیال ہوں کسی اور کا" ہے، جس نے انہیں برصغیر بھر میں ایک منفرد پہچان عطا کی۔ ان کے شعری مجموعے—جن میں محبت ایک شجر ہے، خالی ہاتھوں میں ارض و سما، یہ چراغ ہے تو جلا رہے، ذرا موسم بدلنے دو اور دنیا مری آرزو سے کم ہے شامل ہیں—احساس کی نرمی، خیال کی گہرائی اور بیان کی شستگی کا خوبصورت نمونہ ہیں۔ ان کی شاعری کا لہجہ نہ صرف کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہے بلکہ قاری کے جذبے اور روزمرہ زندگی سے بھی براہِ راست مکالمہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عوامی اور ادبی حلقوں دونوں میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔
ادبی دنیا کے ساتھ ساتھ سلیم کوثر نے پاکستان ٹیلی وژن میں بھی خدمات انجام دیں اور انہیں ان کی ادبی کاوشوں کے اعتراف میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ گزشتہ برسوں میں وہ علالت کے باعث گھریلو زندگی تک محدود ہیں، لیکن ادبی تقریبات اور عالمی اردو کانفرنس جیسے پروگراموں میں ان کے اعزازات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ آج بھی اردو ادب کی معتبر آواز سمجھتے جاتے ہیں۔ سلیم کوثر کی شاعری اپنی نرمی، انسانی محبت اور دل میں اتر جانے والے اسلوب کی بدولت آنے والی نسلوں تک زندہ رہنے والی ہے۔