سلیم کوثر کا کلام
- 01 جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ Jo sachchi baat karna tha, kahan hai woh آواز میں دستیاب
- 02 اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں Ajnabi Hairaan Mat Hona Ke Dar Khulta Nahin آواز میں دستیاب
- 03 نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز Narqh Bala Kun Ke Arzani Hanooz آواز میں دستیاب
- 04 یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں Yeh Log Jis Se Ab Inkaar Karna Chahte Hain آواز میں دستیاب
- 05 یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی Yeh Sail-e-Girya Ghubar-e-Isyaan Ko Dho Bhi Sakta Hai Aur Nahin Bhi آواز میں دستیاب
- 06 اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے Ae Shab-e-Hijr Ab Mujhe Subh-e-Visal Chahiye آواز میں دستیاب
- 07 پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں Phir Ji Uthe Hain Jis Se Woh Imkaan Tum Nahin آواز میں دستیاب
- 08 چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے Chashm-e-Be Khwab Hui Shehar Ki Veerani Se آواز میں دستیاب
- 09 بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے Bas Ik Rasta Hai Ik Aawaz Aur Ek Saya Hai آواز میں دستیاب
- 10 یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے Yaad Kahan Rakhni Hai Tera Khwab Kahan Rakhna Hai آواز میں دستیاب
- 11 دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر Dil Tujhe Naz Hai Jis Shakhs Ki Dil Dari Par آواز میں دستیاب
- 12 ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس Milna Na Milna Ek Bahana Hai Aur Bas آواز میں دستیاب
- 13 بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے Bahut Se Khwab Dekhe Hain, Kabhi Sheron Mein Dhalen Ge آواز میں دستیاب
- 14 کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ Kis Ki Tehweel Mein The Kis Ke Hawale Hue Log آواز میں دستیاب
- 15 ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا Abhi Hairat Ziyada Aur Ujala Kam Rahe Ga آواز میں دستیاب
- 16 تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں Tujh Ko Pane Ki Tamanna Tujhe Khona To Nahin آواز میں دستیاب
- 17 تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو Tumhare Baad Ka Safar Ra'egaan Laga Mujh Ko آواز میں دستیاب
- 18 زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں Zakhmi Ehsaas Agar Hum Bhi Dikhane Lag Jaayen آواز میں دستیاب
- 19 قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں Qurbatein hote hue bhi faaslon mein qaid hain آواز میں دستیاب
- 20 فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے Fareb-e-jubba-o-dastaar khatm hone ko hai آواز میں دستیاب
- 21 اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے Is kharaabe ki tareekh kuch bhi sahi, raat dhalni to hai rut badalni to hai آواز میں دستیاب
- 22 لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی Lazzat-e-hijr le gayi, vasl ke khwab le gayi آواز میں دستیاب
- 23 میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا Meri talab, meri ruswaiyon ke baad khula آواز میں دستیاب
- 24 کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے Kahin tum apni qismat ka likha tabdeel kar lete آواز میں دستیاب
- 25 میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے Main khayal hoon kisi aur ka mujhe sochta koi aur hai آواز میں دستیاب