search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
سلیم کوثر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے
پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے
بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے
یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر
ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس
بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں
تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی
میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے