ساقی فاروقی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ساقی فاروقی اردو کے ان نمایاں اور منفرد شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی زندگی میں روایت سے بغاوت اور جدید شعری حسیت کو جرات مندی کے ساتھ اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کا اصل نام قاضی محمدشمشادنبی فاروقی تھا اور وہ 21 دسمبر 1936ء کو گورکھپور، اتر پردیش (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آیا جہاں انہوں نے شعور کی آنکھ کھولی۔ تقسیمِ ہند، ہجرت اور بعد ازاں جلاوطنی کے تجربات نے ان کی شخصیت اور فکر کو گہرے طور پر متاثر کیا، جس کا عکس ان کی شاعری میں فکری اضطراب، وجودی کرب اور داخلی بے چینی کی صورت میں نمایاں نظر آتا ہے۔

ساقی فاروقی کی زندگی مسلسل نقل مکانی اور فکری جستجو سے عبارت رہی۔ انہوں نے کچھ عرصہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں بھی قیام کیا، جہاں کے سماجی، سیاسی اور تہذیبی حالات نے ان کے مشاہدے کو وسعت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں فرد، ریاست اور طاقت کے باہمی تعلق پر گہری اور کڑی تنقید ملتی ہے۔ بعد ازاں وہ برطانیہ منتقل ہو گئے اور طویل عرصہ لندن میں مقیم رہے، جہاں بیٹھ کر انہوں نے اردو جدید شاعری کو ایک نئی فکری جہت دی۔ یورپ میں قیام کے دوران وہ جلاوطنی، شناخت کے بحران اور تنہائی جیسے موضوعات کو نہایت بے باکی اور فکری شدت کے ساتھ شعری قالب میں ڈھالتے رہے۔

ادبی دنیا میں ساقی فاروقی صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک متحرک ادبی کردار بھی تھے۔ انہوں نے ماہ نامہ “نوائے کراچی” کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے، جس کے ذریعے انہوں نے جدید، ترقی پسند اور غیر روایتی ادب کو فروغ دیا۔ ان کی شاعری میں علامتی اور تجریدی اسلوب، زبان کی کاٹ، فکری تلخی اور سماجی منافقت پر بے رحم تنقید نمایاں ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں پیاس کا صحرا، بدن میں آگ، غبارِ حیرت اور دیگر مجموعے شامل ہیں۔ 19 جنوری 2018ء کو لندن میں ان کا انتقال ہوا، مگر اردو شاعری میں ان کی روایت شکن آواز، فکری جرات اور تخلیقی انفرادیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔