ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

آدمی کو رہ دکھانے کے لئے موجود ہیں

آدمی کو رہ دکھانے کے لئے موجود ہیں
کچھ ستارے جگمگانے کے لئے موجود ہیں
ابر دیواریں سمندر اور نادیدہ افق
رہروؤں کو آزمانے کے لئے موجود ہیں
کیوں گرفتہ دل نظر آتی ہے اے شام فراق
ہم جو تیرے ناز اٹھانے کے لئے موجود ہیں
دیکھتا رہتا ہوں اشیائے تصرف کی طرف
یہ کھلونے ٹوٹ جانے کے لئے موجود ہیں
کون کر سکتا ہے ایسے میں کسی دریا کا رخ
جب وہ آنکھیں ڈوب جانے کے لئے موجود ہیں
میں درختوں سے مخاطب ہوں خدائے عز و جل
جو زمیں پر سر اٹھانے کے لئے موجود ہیں

ثروت حسین