ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا

آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا
ہے کچھ مرے جلنے کا سماں اور طرح کا
یہ شہر ہے مٹی ہے یہاں اور طرح کی
یہ دشت ہے پانی ہے یہاں اور طرح کا
دیتے ہیں خبر خوش گزراں اور طرح کی
کرتے ہیں سخن دل زدگاں اور طرح کا
پر مل گئے مٹی کو تو آنکھوں پہ کھلا یہ
منظر ہے سر کاہکشاں اور طرح کا
تعمیر کی بنیاد میں دل رکھا ہے میں نے
ہم لوگ اٹھائیں گے مکاں اور طرح کا

ثروت حسین