ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا

آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا
اپنے سائے کو سڑک پر دیکھا
خامشی چھائی تھی گلیوں گلیوں
اور کہرام سا گھر گھر دیکھا
یوں تو ہر شخص کو مخلص پایا
ویسے ہر ہاتھ میں پتھر دیکھا
کون رکتا ہے کسی کی خاطر
کس نے رستے میں پلٹ کر دیکھا
ایک اڑتے ہوئے پتے کی طرح
خود کو لمحات کی زد پر دیکھا
ہم نے جس آنکھ میں جھانکا ثروتؔ
ایک خوابوں کا سمندر دیکھا

ثروت حسین