ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

آنگن تمام نیم کے پتوں سے بھر گیا

آنگن تمام نیم کے پتوں سے بھر گیا
جھونکا ہوا کا پیڑ کو ویران کر گیا
چہرہ تھا کوئی جس نے پریشاں رکھا مجھے
لمحہ تھا کوئی جس کے لیے دربدر گیا
حد نگاہ تک یہ کڑی دھوپ اور آج
بادل کا سائبان بھی جانے کدھر گیا
یا لفظ لفظ بھولنا اس کا محال تھا
یا حرف حرف زہر سے میرے اتر گیا
کس طرح سے کٹے گی صفر کی سیاہ رات
ثروتؔ اسی خیال میں دن بھی گزر گیا

ثروت حسین