ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے
اے بادلو مجھے تو بہت دور جانا ہے
کھپریل کی چھتوں سے گزرتے ستارے کو
کچھ دیر آئنے میں ابھی جھلملانا ہے
کس سے ملوگے ٹوٹتی شاخوں کے درمیاں
یہ بارشوں کی رات بڑی وحشیانہ ہے
بوچھار میں سوار کو اوجھل بھی دیکھنا
یہ بن محبتوں سے بھرا بیکرانہ ہے
جنگل کہانیوں کی طرح پھیل جائیں گے
پل بھر سمے کی شاخ پہ منظر سہانہ ہے

ثروت حسین