انساں کی خوشی کا استعارہ
رکھا ہے زمین پر ستارہ
الجھاؤ بہت ہے زندگی میں
کچھ ہوش سے کام لے خدارا
بہتے ہیں چراغ اور بادل
کیا خوب ہے زندگی کا دھارا
اس نے نہ کبھی پلٹ کے دیکھا
میں نے تو اسے بہت پکارا
تھی شام سفر پری کی خاطر
میں نے بھی شفق سے گل اتارا
مٹی کی مہک بتا رہی ہے
گزرا تھا ادھر سے ابر پارہ
ثروت حسین