باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا
منظر یہ سارے کا سارا پھول میں تھا
راسیں تھامے ٹھہر گیا میں رستہ میں
جیسے جنت کا نظارہ پھول میں تھا
تند ہوائیں لے گئیں اس کو ساتھ اپنے
ہاں یارو اک شخص ہمارا پھول میں تھا
جلتی آنکھ میں ریگ بیاباں اڑتی تھی
آنکھ لگی تو میں دوبارہ پھول میں تھا
میں نے اس کو چوم کے دیکھا تھا ثروتؔ
برف برستی تھی انگارہ پھول میں تھا
ثروت حسین