دن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرح
آج کس نے میرے دل پر ہاتھ رکھا دھوپ کے پر کی طرح
گھنٹیاں بجنے لگیں
ایک دروازہ کھلا
آج میرے ہاتھ میں اک پھول ہے
لوگ اتریں گے پہاڑوں سے کسی دن شہد کے پیالے لیے
گھڑ سواروں کے قدم سے جگمگائیں گے ببول
ہونٹھ کھولیں گے رسول
شاعری کا ساتھ ہے
اک پری کا ہاتھ ہے
جس کی انگلی میں انگوٹھی جگمگاتی ہے کسی دل کی طرح
دل کی تہہ میں اک سمندر ہے جسے بیدار کرنا ہے مجھے
پار کرنا ہے مجھے
اس کنارے جاؤں گا
گیت اور امید لے کر آؤں گا
تم یہاں اس سنہرے پل سے مجھے آواز دینا
زندگی اک شور ہے ہنستے ہوئے گھر کی طرح
دن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرح
ثروت حسین