دوپہر کی سلطنت میں فاختہ کچھ بولتی ہے زندگی پر کھولتی ہے نیند سے باہر نکل کر میں نے اس کے ہونٹھ چکھے آئنے پر پھول رکھے دوپہر کی سلطنت میں
ثروت حسین