ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے
ابھی تو یہ منظر ہماری محبت سے دہکا ہوا ہے
بہت دیر تک اس گھنیرے شجر نے پریشان رکھا
کسی شاخ پر آگ ہے اور کہیں ابر کا ذائقہ ہے
مجھے اپنا سیارہ تبدیل کرنے کی خواہش ہی کیوں ہو
کہ اب بھی زمیں پر بڑا حسن ہے اور گمبھیرتا ہے
ہوائے خزاں میں درختوں کی دل جوئی لازم ہے ثروتؔ
گریز اور گردش کا دن ہے مگر مجھ کو رکنا پڑا ہے

ثروت حسین