ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

ملاح کا دل

کسی نے نہیں دیکھا
ملاح کا دل
یہاں تک کہ شام آ گئی
وہ گر پڑا
ایک اونچے مستول سے
کبھی نہ اٹھنے کے لیے
کسی نے نہیں دیکھا
ملاح کا دل
جب وہ پھینک دیا گیا
پتھر کی طرح
گہرے پانی میں
کسی نے نہیں دیکھا
ملاح کا دل
اور اس میں سوئی ہوئی ایک لڑکی کو
کسی نے نہیں دیکھا

ثروت حسین