میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں
تربوز کی ایک قاش جس پر ہمارے بچوں نے دانت گاڑ دئے ہیں
ایک جال جسے چوہوں نے جگہ جگہ سے کتر لیا ہے
نظموں کی ایک کتاب جسے گھڑونچی کی بنیاد میں دفن کر دیا گیا
ایک پالنا جس کی رسیاں کاٹ دی گئیں
ایک کوچی جو پچھلے تیس سال سے رنگوں میں ڈوبی ہوئی ہے
ایک نام جس سے میں تمہیں پکارنا چاہتا ہوں
میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں اس ہوا دار مکان کے سوا
جہاں ہر چیز تمہارا انتظار کر رہی ہے
ثروت حسین