نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے
آج اگر دیکھ نہ پائیں گے تو کل دیکھیں گے
چشم نظارہ ملی ہے تو بہ ہر صورت ہم
آدم خاک کو مصروف عمل دیکھیں گے
ورق زیست پہ لکھیں گے کہانی اپنی
نظم ہستی کو کسی روز بدل دیکھیں گے
ساتھ رکھیں گے اسے باغ کی تنہائی میں
اور فوارے سے گرتا ہوا جل دیکھیں گے
مدتوں بعد کوئی زمزمہ پرداز ہوا
آج ہم لوگ طلسمات غزل دیکھیں گے
لوٹ کر کوئی جہاں سے نہیں آتا ثروتؔ
انہیں راہوں پہ کسی وقت نکل دیکھیں گے
ثروت حسین