ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

نیلی لکیر

ازل سے تم بہ رہے ہو سندھو
قریب آؤ
ہمیں سناؤ وہ سارے قصے جو تم پہ بیتے ہیں اس سفر میں
اناج گھر میں
تمہاری زرخیزیوں کی چادر بچھی ہوئی ہے
جنوب کی سمت بہنے والے مہان سندھو
تمہیں مبارک شمال کی برف کا پگھلنا
تمہارے تہذیب یافتہ کنارے ابد کو آواز دے رہے ہیں
ہمارے ملاح اور مچھیرے تمہاری چاہت میں نغمہ گر ہیں
زمیں کے نقشے پہ ایک نیلی لکیر جو مسکرا رہی ہے
وصال کا گیت گا رہی ہے

ثروت حسین