ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے

راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے
راستوں کے سنگ بھی اب ہم سفر ہونے لگے
کس قدر گمبھیر ہے تاریکیوں کا سلسلہ
چاندنی کے دائرے بھی مختصر ہونے لگے
گھر کے باہر شہر کی جلتی ہوئی سڑکوں پہ آ
ہم پہ جو بیتے ہے تجھ کو بھی خبر ہونے لگے
وقت کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں ذہن و دل
ہاں مگر ایسا نہ ہو یوں ہی بسر ہونے لگے
نام کی تختی ہماری اور گھر ہے غیر کا
دوستو سنتے ہو اب ایسے بھی گھر ہونے لگے

ثروت حسین