ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

سورج ابھی کہر میں چھپا تھا

سورج ابھی کہر میں چھپا تھا
جو نقش تھا دور کی صدا تھا
روشن تھی ہوا کہیں کہیں پر
ایک آدھ کواڑ کھل چکا تھا
ویران سڑک پہ مردہ چڑیاں
موسم کا عجیب سانحہ تھا
تالاب تھا یا کہ شہر کے بیچ
آئینہ کسی نے رکھ دیا تھا
اوجھل تھا نگاہ سے جزیرہ
دیوار ہوا کا سامنا تھا
شاخوں میں ہوا رکی ہوئی تھی
رستہ دریا میں جا گرا تھا
لڑکی کوئی گھاٹ پر کھڑی تھی
پانی پہ چراغ جل رہا تھا
آنکھوں سے پرے تہ خس و خاک
خوشبو کا بدن سلگ رہا تھا
رقصاں کوئی عکس تھا نظر میں
لرزاں کوئی حرف جا بہ جا تھا
ثروتؔ وہ فضائے صبح سرما
لگتا ہے کہ جیسے خواب سا تھا

ثروت حسین