یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں
اس بادل کو چھو مت لینا پاگلپن میں کہیں
وہی نشیب اور وہی ستارہ کون ہے تو ہمراہی
سارا جنگل بیت نہ جائے اس الجھن میں کہیں
جیسے کوئی خوش خبر پرندہ زمیں کنارے پر
آگ جلی ہے دور پہاڑی کے دامن میں کہیں
گیتوں سے کچھ خواب تھے جانے کس کے سپرد کیے
اسی شہر کی دیواروں میں یا پھر بن میں کہیں
دو آئینے ایک چراغ کی لو کو دہرانے میں
جلتے جائیں پگھلتے جائیں تیز پون میں کہیں
ثروت حسین